واشنگٹن،17؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)ساؤتھ ایشیا اسٹیٹ آف مائنارٹی رپورٹ 2020 میں نئے شہریت سے متعلق قوانین کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ ہندوستان مسلمانوں کیلئے ایک انتہائی خطرناک ملک ہے-
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہری قوانین میں ترمیم کے ساتھ ہی ہندوستان مسلم اقلیتوں کیلئے ایک ’خطرناک اور پْر تشدد مقام‘ بن چکا ہے-ساؤتھ ایشیا اسٹیٹ آف مائنارٹی رپورٹ 2020 کے مطابق، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، پاکستان اور سری لنکا کے شہریوں کی اظہار رائے اور انفرادی آزادی کا جائزہ لینے والی رپورٹ تیار کی گئی ہے-
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کو خطرہ ہے لیکن ہندوستان مسلمانوں کیلئے خطرناک اور پرتشدد مقام بن چکا ہے-رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2014 سے جب سے بی جے پی اقتدار پر قابض ہوئی ہے، مذہبی اقلیتوں پر حملے ہوئے ہیں اور ہندوستان میں مسلمانوں اور مسلم تنظیموں کے حقوق اور اظہار رائے پر اثر پڑا ہے- مئی 2019 میں بی جے پی زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس لوٹی تو صورت حال مزید ابتر ہو گئی-
فارین کنٹریبیوشن (ریگولیشن) ایکٹ جو ہندوستان کے اداروں کیلئے بیرونی عطیہ پر نظر رکھتا ہے، اس میں بھی تبدیلی لائی گئی ہے-رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مسلم اداکاروں، انسانی حقوق کے وکلاء، جہد کاروں، مظاہرین، ماہرین تعلیم، صحافیوں، دانشوروں اور جو بھی حکومت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ان پر تیزی سے حملے کئے گئے ہیں - انسانی حقوق کارکن، پابندی، تشدد، ہتک عزت کے معاملوں اور استحصال کا سامنا کر رہے ہیں -
رپورٹ میں گزشتہ سال جموں و کشمیر میں اس وقت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جب مرکزی حکومت نے آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست کو حاصل خصوصی درجہ کو منسوخ کر دیا تھا- رپورٹ میں سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کشمیر کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ باضابطہ جمہوری ڈھانچے کے اندر شہریوں کے حقوق کو کس طرح پامال کیا جا سکتا ہے-